ہے کوئی  کاذب  جہاں  میں  لاؤ   لوگو  کچھ  نذیر

میرے  جیسی  جس  کی تائیدیں  ہوئی  ہوں  بار  بار

                                                           (براہین احمدیہ جلد پنجم۔روحانی خزائن جلد 21صفحہ 134)

               ’’کسی شخص کا یہ دعویٰ کرنا کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے ہم کلام ہوتاہے اور اُس نے مجھے اپنا برگزیدہ مامور ٹھہرایا ہے اور مجھے اپنے علم سے سرفراز فرمایا ہے اور مجھے تمام دنیا پر فضیلت عطا فرمائی ہے اور اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ مَیں اس کی طرف سے رسول ہر کر تمام مخلوق کو اس کی طرف بلاؤں ، اِتنا غیر معمولی اور جُرأ ت مندانہ دعویٰ ہے کہ کوئی عقلمند انسان اس سے عدم توجّہی نہیں بَرت سکتا۔

   دُنیا کی ادنیٰ ادنیٰ حکومتیں جب کسی کو اپنا نمایندہ یا سفیر بنا کر کسی دوسرے ملک کو بھیجتی ہیں تو بڑی بڑی جابر حکومتیں بھی اس کی بات سننے اور اس کی طرف توجہ کرنے پر مجبور ہ جاتی ہیں کجا یہ کہ تمام کائنات کے خالق و مالک کی طرف سے ۔۔۔۔آنے والے پیغامبر سے لاپرواہی اور عدم توجہی کا حق جائز سمجھا جائے ۔

   جو شخص خدا تعالیٰ کی ہستی کا قائل نہیں ہے وہ بھی یہ موقف اختیار نہیں کر سکتا کیونکہ اس کی عقل مجبور کرتی ہے کہ جس طرح وہ اَور دنیو ی صداقتوں کے پیش کرنے والوں کے دعویٰ کی چھان بین کرتا ہے اسی طرح وہ مدعیٔ ماموریت کے دعویٰ کی بھی پوری سنجید گی سے چھان بین کرے اور اس کے پیش کردہ دلائل کو زیر غور لائے پھر اگر اس کی سمجھ میں آجائے تو قبول کر لے ورنہ ردّ کر دے ۔ لیکن یہ موقف کسی طرح بھی اختیار نہیں کر سکتا کہ مجھے ان دعاوی پر غور کرنے یا اس کی جانچ پڑتال کرنے کی سِرے سے ضرورت ہی نہیں ۔

ہمارے اس زمانہ میں بھی ایک مدّعی ماموریت کی صدا پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں قادیان سے بلند ہوئی جس نے اعلان کیا :۔

               ’’مَیں نے بار بار بیان کر دیا ہے کہ یہ کلام جو مَیں سناتا ہوں یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے اور مَیں خدا کا ظِلّی اور بروزی طور پر نبی ہوں اور ہر ایک مسلمان کو دینی امور میں میری اطاعت واجب ہے اور مسیح موعود ماننا واجب ہے اور ہر ایک جس کو میری تبلیغ پہنچ گئی ہے گو وہ مسلمان ہے مگر مجھے اپنا حکم نہیں ٹھہراتا اور نہ مجھے مسیح موعود مانتا ہے اور نہ میری وحی کو خدا تعالیٰ کی طرف سے جانتا ہے وہ آسمان پر قابل مؤاخذہ ہے کیونکہ جس امر کو اس نے وقت پر قبول کرنا تھا اس کو ردّ کر دیا۔‘‘

   یہ دعویٰ اتنا بڑا ہے کہ خواہ کوئی شخص کیسے ہی خیالات کیوں نہ رکھتا ہودہریہ ہو ، یہودی ہو ، عیسائی ہو، ہندو ہو یا اور کسی مذہب کا پیرو ہو اس دعویٰ سے آنکھیں بند کر لینے کا حق نہیں رکھتا کیونکہ اگر یہ دعویٰ سچا نکلا تو مالک یوم الدین کے مواخذہ سے رہائی کیسے ہو گی؟

   حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے اس دعوی ٰ کی تشہیر اور تبلیغ کے مفوضہ فرض کو ادا کرنے کےلئے جہاں سینکڑوں اشتہار شائع کئے اور ہزاروں خطوط لکھے وہاں اسی کے قریب مستقل تصانیف بھی شائع کیں۔ ‘‘

(ازحضرت مرزاغلام احمد قادیانی ؑ اپنی تحریروں کی رو سے۔ )