جماعت احمدیہ 

رسول اللہ ﷺ نے امت کو خبردار کیا تھا کہ آخری زمانہ میں میری امت 73 فرقوں میں بٹ جائے گی ان میں سے ایک سچا ہو گا باقی سب جھوٹے ہوں گے بلکہ آگ میں ہوں گے ۔ اسلام نام کا رہ جائے گا قرآن کے الفاظ رہ جائیں گے یعنی اس پر عمل نہیں ہو گا ۔مسجدیں بظاہر آباد مگر ہدایت سے خالی اور اس زمانے کے علماء آسمان کے نیچے بد ترین مخلوق ہوں گے کیونکہ ان سے فتنے اور شر نکلے گا جیسے کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں ۔ فرمایا کہ ان فرقوں سے الگ ہو کر امام اور اسکی جماعت کی تلاش کرنا یہی 73 واں ناجی فرقہ ہو گا۔ ایک دوسری روایت میں فرمایا کہ اس زمانے میں ایمان ثریا ستارے پر جا پہنچے گا تب اللہ تعالی  ایک عظیم الشان وجود کو بھیجے گا جو ایمان کو واپس لائے گا اور اسلام کو زندہ کرے گا اور مسلمانوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرے گا اور تمام دنیا میں اسلام کو غالب کرے گا۔ اس وجود کا نام پیشگوئیوں میں امام مہدی اور مسیح بتایا گیا ہے ۔ جماعت احمدیہ کے مطابق وہ عظیم الشان آسمانی مصلح حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام (1908۔ 1835) ہیں جنکو اللہ تعالی نے امام مہدی اور مسیح موعود کا خطاب دیا آپ نے 1889 میں بیعت لے کر اپنی جماعت کی بنیاد ڈالی جو جماعت احمدیہ کہلاتی ہے آپ کی وفات کے بعد حسب پیشگوئی  خلافت کا عظیم الشان نظام  قائم ہوا جس کی بدولت جماعت بے شمار مخالفت کے باوجود  مسلسل ترقی کرتی چلی گئی اور اللہ کے فضل سے آج 200 سے زائد ملکوں میں پھیل چکی ہے ۔قریبا 100 زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم کروا کر ساری دنیا میں اسلام کی تبلیغ کر رہی ہے ۔ ہر سال بہت سی مساجد اور مشن ہاوسز کا قیام ہوتا ہے لاکھوں سعید فطرت لوگ ہر مذہب و ملت سے نکل کر احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں داخل ہو رہے ہیں ۔

احمدیوں اور غیر احمدیوں میں فرق

جماعت احمدیہ حقیقی اسلام پر عمل پیرا ہے وہ اسلام جو نبی کریم ﷺ اور خلافت راشدہ کے دور میں تھا جو سلامتی اورامن کا ضامن تھا جبکہ دوسرے تمام فرقے محض رسم و رواج کی پیروی کر کے نام کے مسلمان ہیں اسی لئے ہر قسم کی برائیون اور فتنہ فساد میں مبتلا ہیں  جیسے کہ پیشگوئی میں ذکرتھا۔جہاں تک عقائد کا تعلق ہے تو جماعت احمدیہ کے عقائد عین قرآن و حدیث کے مطابق ہیں جبکہ دوسرے مسلماںوں نے خود ساختہ عقیدے بنا رکھے ہیں جیسے حضرت عیسی علیہ السلام زندہ جسم سمیت آسمان پر چلے گئے اسکا ذکر نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں بلکہ یہ خود ساختہ کہانی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں قرآن کریم وضاحت کے ساتھ انکی وفات کا ذکر کرتا ہے ۔ اسی لئے جماعت احمدیہ بھی دیگر بہت سے سابق علماء کی طرح وفات مسیح کی قائل ہے اور احادیث کے مطابق آنے والے امام مہدی کو ہی مسیح موعود قرار دیتی ہے ۔ بنیادی طور پر یہی ایکعلمی اختلاف ہے کہ عیسی علیہ السلام زندہ ہیں یا وفات پا چکے ہیں ۔دوسرا  جماعت یقین رکھتی ہے کہ  امام مہدی اور مسیح موعود آ چکے ہیں جبکہ غیر احمدی مسلمان انکا انتظار کر رہے ہیں ۔

شرائط بیعت

جماعت احمدیہ میں داخل ہونے کی دس شرائط ہیں جنکا خلاصہ یہ ہے:

۱۔ شرک سے اجتناب

۲۔ جھوٹ، زنا اور دیگر بدیوں سے بچنا

۳۔ نماز پنجگانہ اور تہجد کی ادائیگی، درود شریف اور استغفار پڑھنا اور اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء کرنا

۴۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو تکلیف نہ دینا

۵۔ اللہ کے ساتھ وفاداری اور اس کی رضا پر راضی رہنا

۶۔ قرآن کریم کی تعلیمات پر کاربند ہونا

۷۔ تکبر اور نخوت سے بچاؤ

۸۔ دین کو دنیا پر مقدم رکھنا

۹۔ ہمدردی خلق

۱۰۔ امام مہدی سے پختہ تعلق