حضرت مسیح علیہ السلام کو قرآن کریم نے متعدد آیات میں وفات یافتہ قرار دیا ہے ۔ اور آنحضرت ﷺ اور آپ ؐ کے صحابہؓ کا یہی عقیدہ تھا ۔ آئے پہلے چند احادیث اور پھر صحابہؓ کے اقوال ملاحظہ ہوں ۔

مسیح کی عمر

حضرت عیسیٰ بن مریم ایک سو بیس سال زندہ رہے ۔ (کنزالعمال جلد ۶ صفحہ ۱۲۰ از علاؤالدین علی المتقی ۔ دائرہ المعارف النظامیہ ۔ حیدرآباد ۱۳۱۲ھ)

مسیح فوت ہوگئے

اگر حضرت موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے بغیرچارہ نہ ہوتا ۔ (الیواقیت والجواہر صفحہ ۲۲ از علامہ عبدالوہاب شعرانی مطبع ازہریہ مصر ، مطبع سوم ، ۱۳۲۱ھ)

ایک اور روایت میں ہے ۔ اگرحضرت عیسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔(شرح فقہ اکبر مصری صفحہ ۱۱۲ از حضرت امام علی القاری مطبوعہ ۱۳۷۵ھ)

آنحضرت ﷺ نے نجران کے عیسائیوں کو توحید کا پیغام دیتے ہوئے فرمایا ۔ ’ کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب زندہ ہے کبھی نہیں مرے گامگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں ۔ (اسباب النزول صفحہ ۵۳ از حضرت ابوالحسن الواحدی طبع اولیٰ ۱۹۵۹ء مطبع مصطفی البابی مصر)

فلسطین سے ہجرت

حضور ﷺ نے فرمایا ۔ ’اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف وحی کی کہ اے عیسیٰ ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف نقل مکانی کرتا رہ تاکہ کوئی تجھے پہچان کر دکھ نہ دے ‘۔ (کنزالعمال جلد ۲ صفحہ ۳۴)

’حضرت عیسیٰ ؑ ہمیشہ سیروسیاحت کیا کرتے تھے اور جہاں شام پڑتی تھی جنگل کی سبزیاں کھاتے اور خالص پانی پیتے تھے‘ ۔ (کنزالعمال جلد ۲ صفحہ ۷۱)

امت محمدیہ میں سے امام

آنحضرت ﷺ نے جہاں امت محمدیہ میں مسیح موعود کی خبر دی ہے وہاں ساتھ ہی فرمایا ۔ امامکم منکم تم میں سے تمہارا امام ہوگا ۔ (بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسیٰ )

صحیح مسلم کی روایت اس کی مزید وضاحت کرتی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ۔ امکم منکم ۔تمہاری امامت کرے گا اور تم میں سے ہوگا (مسلم کتاب الایمان باب بیان نزول عیسیٰ )

حضور ﷺ نے فرمایا حضرت موسیٰ نے دعا کی کہ اے رب مجھ کو امت محمدیہ کا نبی بنادے ۔ ارشاد ہوا اس امت کا نبی اسی میں سے ہوگا ۔ عرض کیا تو مجھ کو محمدکی امت میں سے بنادیجئے ۔ ارشاد ہوا کہ تم پہلے ہوگئے وہ پیچھے ہونگے البتہ تم کو اور ان کو دارالجلال یعنی جنت میں جمع کردونگا ۔ (نشر الطیب از اشرف علی تھانوی ۱۳۹۷ھ ادب منزل پاکستان چوک ، کراچی)

ایک روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دعا کی کہ مجھے امت محمدیہ کا امام مہدی بنادے۔ تو اللہ نے فرمایا ۔ اس کا وجود احمد ﷺکے ذریعہ (یعنی اس کی امت میں سے) ہوگا ۔ (کتاب المہدی صفحہ ۱۱۲ از صدرالدین صدر، مطبوعہ تہران ۱۹۶۶ء)

الگ الگ حلیے

حضور ﷺ نے مسیح ناصری اور مسیح موعود کے الگ الگ حلیے بھی بیان فرمائے ہیں ۔ حضرت عیسیٰ سرخ رنگ کے اور گھنگھریالے بالوں والے اور چوڑے سینے والے تھے ۔ آنے والا مسیح موعود گندمی رنگ اور سیدھے بالوں والا ہے ۔ (صحیح بخاری کتاب الانبیاء باب و اذکرنی الکتاب مریم)

آخری خطاب

حضور ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں صحابہ رضوان اللہ علیھم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ۔ ’اے لوگو! مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم اپنے نبی کی موت سے خوفزدہ ہو۔ کیا مجھ سے پہلے مبعوث ہونے والا کوئی نبی بھی ایسا گزرا ہے جو غیر طبعی عمر پاکر ہمیشہ زندہ رہا ہو کہ میں ہمیشہ زندہ رہ سکوں گا۔ یاد رکھو کہ میں اپنے رب سے ملنے والا ہوں ۔‘ (المواہب الدنیہ جلد ۲ صفحہ ۳۶۸ از احمد بن ابی بکر خطیب قسطلانی شرفیہ ۱۹۰۸ء)

صحابہ کا پہلا اجماع

یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرام کا سب سے پہلا اجماع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر ہوا ۔ کئی صحابہ نے شدت محبت اور غم کی وجہ سے حضور ﷺ کو وفات یافتہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔ تب حضرت ابوبکر ؓ تشریف لائے اور سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ۱۴۵ تلاوت فرمائی ۔

 ما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل

یعنی محمد ؐ صرف ایک رسول ہیں۔ اور ان سے پہلے سب رسول فوت ہوچکے ہیں ۔ یہ آیت سن کر صحابہ نے حضور ﷺ کو فوت شدہ مان لیا ۔ اگر کوئی ایک صحابی بھی حضرت عیسیٰ ؑ کو زندہ سمجھتا تو وہ کہہ سکتا تھا کہ اگر حضرت عیسیٰ رسول ہو کر اب تک زندہ ہیں تو آنحضرت ﷺ کیونکر فوت ہوسکتے ہیں ۔ (بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی )

اجماع صحابہ کی جھلک بحرین میں

فرقہ اہلحدیث کے بانی محمد بن عبدالوہاب تحریر فرماتے ہیں ۔ حضور ﷺ کی وفات کے بعد بحرین کے کئی لوگ اس بات سے مرتد ہوگئے کہ اگر حضور ﷺ رسول ہوتے تو ہرگز فوت نہ ہوتے ۔ تب صحابی رسول حضرت جارود بن معلی رضی اللہ عنہ نے ان سے خطاب کیا اور فرمایا آنحضرت ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ آپ ویسے ہی زندہ رہے جیسے حضرت موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ زندہ رہے اور اسی طرح انتقال کرگئے جیسے حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ نے وفات پائی ۔ یہ سن کر سب لوگ اسلام میں واپس آگئے ۔ ( مختصر سیرۃ الرسول ؐ صفحہ ۱۸۷ از محمدبن عبدالوہاب دارلعربیہ بیروت لبنان)

اجماع صحابہ کی جھلک کوفہ میں

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات پر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا ۔ ’حضرت علی رضی اللہ عنہ اس رات فوت ہوئے جس رات حضرت عیسیٰ بن مریم کی روح اٹھائی گئی تھی ۔ یعنی ۲۷ رمضان کی رات ۔ (طبقات ابن سعد ، جلد ۳ صفحہ ۳۹ دارالبیروت للطباعہ والنشر)

حضرت ابن عباس کا عقیدہ

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ آیت انی متوفیک ۔۔ کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ ممیتک ۔یعنی میں تجھے موت دینے والا ہوں ۔ (بخاری کتاب التفسیر سورۃ المائدہ باب ماجعل اللہ من بحیرۃ۔۔۔)

حیات مسیح کا عقیدہ

دوسری طرف حیات مسیح کے عقیدہ کی قرآن و حدیث سے کوئی تائید نہیں ہوتی ۔ حضرت بانی جماعت احمدیہ نے چیلنج دیا ہے کہ کسی ایک حدیث میں بھی حضرت مسیح کے مادی جسم سمیت آسمان پر جانے کا کوئی ذکر نہیں ۔ پس آنحضور ﷺ کی طرف منسوب ہونے والے ہر شخص کا وہی عقیدہ ہونا چاہیے جو حضور ﷺ کا تھا اور آپ ﷺ کے صحابہ رضوان اللہ علیھم کا تھا کیونکہ اسی میں فلاح اور نجات ہے ۔